- IMTEZAAJ, Vol # 10, Issue # 10
- سرسیّد اور تعلیمِ نسواں
سرسیّد اور تعلیمِ نسواں
- Saira Mehdi/
- December 30, 2018
Sir Syed Ahmad Khan and female education
Keywords
Though Sir Syed Ahmed Khan was working hard to promote education in the sub-continent, he was not much in favour of girl’s education. This article discusses the reasons behind Sir Syed’s stance on the issue and explains social, religious and cultural background which had created a general opposition and dislike for female education in British India’s orthodox society.
سرسیّد اور تعلیمِ نسواں
حواشی
(۱) پروفیسر خورشید احمد، نظامِ تعلیم (اسلام آباد: انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز، ۱۹۹۳ء)، ص ۳۳
(لارڈ میکالے (۱۸۰۰ء۔ ۱۸۵۹ء)، ۱۸۳۴ء میں بحیثیت رکن برائے قانونی امور ہندوستان آئے ان کو یہاں کا نظامِ تعلیم مرتب کرنے کا کام سونپا کیا۔ ۱۸۳۵ء میں میکالے ایکٹ کے تحت ہندوستانیوں کو ادب انگریزی میں پڑھایا جائے گا۔ وظائف اور تعلیمی امور کا تمام پیسا انگریزی تعلیم کے فروغ پر خرچ کیا جائے گا۔)
(جاپان میں ٹکواواحکومت کو میجی رہنمانے (۱۸۶۸ء۔۱۹۱۲ء) ختم کیا اور ملک میں نئی اصلاحات کیں جس میں پرانے جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ کرکے مغربی تصورات اور جدید تجارت کو فروغ دیا گیا۔میجی رہنماوئں نے مرکزی تعلیمی نظام مرتب کیا)
(۲) ایضاً، ص۷۰
(۳) شیخ محمداکرام، رودِکوثر (لاہور: ادارئہ ثقافتِ اسلامیہ، ۲۰۰۵ء)، ص۴۶۴،۴۶۵
(۴) ایضاً، ص۷۴
(۵) ایضاً، ص۷۷
(۶) سیّد الطاف علی بریلوی، ایجوکیشنل کانفرنس کا کردار (کراچی: ایجوکیشنل پریس، ۱۹۸۶ء)، ص ۲۸
(۷) ایضاً، ص ۱۴
(۸) ایضاً، ص ۱۶
(۹) پروفیسر خورشیداحمد،محولہ بالا، ص ۸۹
(۱۰) ایضاً، ص۹۴
(۱۱) سیّد الطاف علی بریلوی، محولہ بالا، ص۴۴
(راجا رام موہن رائے، ۱۷۷۲ء۔ ۱۸۳۳ء، برہمن گھرانے میں پیدا ہوئے۔ فارسی اور عربی زبان میں مہارت حاصل کی۔ قرآن کا بغور مطالعہ کیا۔ مذہبی اختلافات کی بنا پر کلکتہ چلے گئے اورکامیاب تجارت کا آغاز کیا۔۱۸۰۵ء۔ ۱۸۱۵ء ایسٹ انڈیا کی نوکری کی اس دوران کئی کتابیں لکھیں اور ستّی کی رسم کے خلاف آواز اٹھائی۔ انھوں نے ہر سماجی بے انصافی کی مخالفت کی خاص طور پر عورتوں کے حقوق سے متعلق، جدید تعلیم کی اہمیت پر زور دیا۔وہ مغربی دنیا کی نظر میں ہندوستان کی عظمت پیدا کرنا چاہتے تھے۔)
(۱۲) پروفیسر خورشیداحمد،محولہ بالا، ص۹۰
(۱۳) شیخ محمداکرام، موجِ کوثر (لاہور: ادارہ ثقافتِ اسلامیہ، ۱۹۹۳ء)، ص۷۵
(۱۴) قاضی جاوید، سر سیّد سے اقبال تک، (لاہور:فکشن ہائوس، ۲۰۱۴ء)، ص۱۰
(۱۵) پروفیسر خورشید احمد، محولہ بالا، ص۹۴ا
(۱۶) ایضاً، ص ۹۲
(۱۷) ثریا حسین، سر سیّد اور اُن کا عہد، (علی گڑھ: ایجوکیشنل بک ہاؤس،۱۹۹۳ء)، ص ۳۵۴،۳۵۵
(۱۸) محمد امین زبیری، مسلم خواتین کی تعلیم (کراچی: ادارئہ تصنیف و تالیف، ۱۹۵۶ء)، ص ۹۰، ۹۳
(۱۹) قاضیجاوید، محولہ بالا، ص ۱۰
(۲۰) سیّد الطاف علی بریلوی، محولہ بالا، ص ۶۷
(۲۱) قاضی جاوید، محولہ بالا، ص ۱۳۰
(۲۲) سیّد الطاف علی بریلوی، محولہ بالا، ص ۱۶
(۲۳) پروفیسر عزیز احمد، برصغیر میں اسلامی جدیدیت، مترجم: ڈاکٹر جمیل جالبی، (لاہور:ادارئہ ثقافت اسلامیہ، ۲۰۰۶ء)، ص۶ ۶
(۲۴) سیّد الطاف علی بریلوی، محولہ بالا، ص ۱۶۳
(۲۵) سیّد الطاف حسین حالی، حیاتِ جاوید، جلداوّل (آزاد کشمیر: ارسلان بکس، ۲۰۰۰ء)، ص ۲۹۱
(۲۶) اصغر عباس، سرسیّد کا سفر نامہ (مسافران لندن)، (علی گڑھ: ایجوکیشن بک ہائوس، ۲۰۰۹ء)، ص۵۳
(میری کارپینٹر کا تعلق برسٹل سے تھا۔ وہاں بھی غریب لڑکیوں کی تعلیم کے لیے کام کرتیں تھیں۔ ۱۸۶۷ء سے ۱۸۷۷ء کے دوران چار مرتبہ ہندوستان کا دورہ کیا۔ انھوں نے لڑکیوں کے اسکول قائم کئے۔)
(۲۷) ایضاً، ص۱۷۶
(سرسیّداحمدخان نے ۱۸۷۰ء میں لندن سے خط کے ذریعے لندن کالجیٹ گرلز اسکول کے طریقۂ تعلیم کے بارے میں اپنے ہم وطنوں کو مطلع کیا جس میں درسی مضامین، کورس کی مدت، سالانہ فیس، رہائشی انتظام اور اختیاری دینی تعلیم وغیرہ کی تفصیلات شامل تھیں۔)
(۲۸) ایضاً، ص۷۱
(۲۹) شاہد حسین رزاقی، سر سیّد اور اصلاحِ معاشرہ (لاہور: ادارئہ ثقافت اسلامیہ، ۱۹۶۳ء)،ص ۳۵۶، ۳۵۷
(۳۰) سیّد الطاف حسین حالی، حیاتِ جاوید، جلددوم (آزاد کشمیر: ارسلان بکس، ۲۰۰۰ء)، ص ۲۵۵۔۲۵۷
(۳۱) ایضاً، ص۲۵۹
(۳۲) ثمینہ حسنین، انیسویں اور بیسویں صدی کے ہندوستانی مسلم جدیدیت پسند اور مسئلۂ زن، مشمولہ فکرونظر، ادارہ تحقیقات اسلامی، اسلام آباد، شمارہ ۴، (اپریل۔جون ۲۰۱۲ء)، ص ۱۰۱
(۳۳) ڈاکٹر شیخ محمدعبداللہ، مشاہدات و تاثرات،(علی گڑھ: فیمیل ایجوکیشن ایسوسی ایشن، ۱۹۶۹ء)، ص ۲۰۶
(شیخ عبداللہ (۱۸۷۴ء۔۱۹۶۵ء) ضلع پونچھ، کشمیر میں پیدا ہوئے۔ ۱۸۹۱ء علی گڑھ آئے اور ایل۔ایل۔بی کی ڈگری لی۔ وکالت کے پیشے سے وابستہ رہے۔ لڑکیوں کی تعلیم کے لیے عملی اقدامات کیے۔ ان کی خدمات کے صلے میں’ خان بہاد‘ر کا خطاب دیا گیا۔)
(۳۴) ایضاً، ص ۲۰۲
(۳۵) پروفیسر خلیق احمد نظا می،سر سیّد اور علی گڑھ تحریک (علی گڑھ :ایجوکیشنل بک ہائوس، ۱۹۸۲ء)، ص ۲۱
(۳۶) احمد ندیم قاسمی، مقالاتِ سرسید، حصہ پنجم (لاہور:مجلسِ ترقیِ ادب، ۱۹۹۰ء)، ص ۱۶
(۳۷) ایضاً، ص ۱۸۶، ۱۸۷
(۳۸) ایضاً، ص ۱۸۹
(۳۹) سیّد الطاف علی بریلوی، محولۂ بالا، ص ۱۶۴، ۱۶۵
مآخِذ
(۱) احمد، خورشید، پروفیسر، نظامِ تعلیم، اسلام آباد: انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز، ۱۹۹۳ء
(۲) احمد، عزیز، پروفیسر، برصغیر میں اسلامی جدیدیت، مترجم: ڈاکٹر جمیل جالبی، لاہور:ادارئہ ثقافت اسلامیہ، ۲۰۰۶ء
(۳) اکرام، شیخ محمد، رودِکوثر، لاہور: ادارئہ ثقافتِ اسلامیہ، ۲۰۰۵ء
(۴) _____ ، موجِ کوثر، _____، ۱۹۹۳ء
(۵) بریلوی، الطاف علی، سید، ایجوکیشنل کانفرنس کا کردار، کراچی: ایجوکیشنل پریس، ۱۹۸۶ء
(۶) جاوید، قاضی، سر سیّد سے اقبال تک، لاہور:فکشن ہائوس، ۲۰۱۴ء
(۷) حالی، الطاف حسین، سید، حیاتِ جاوید، جلداوّل، آزاد کشمیر: ارسلان بکس، ۲۰۰۰ء
(۸) _____، _____، جلددوم، _____
(۹) حسین، ثریا، سر سیّد اور اُن کا عہد، علی گڑھ: ایجوکیشنل بک ہاؤس،۱۹۹۳ء
(۱۰) رزاقی، شاہد حسین، سر سیّد اور اصلاحِ معاشرہ، لاہور: ادارئہ ثقافت اسلامیہ، ۱۹۶۳ء
(۱۱) زبیری، محمد امین، مسلم خواتین کی تعلیم، کراچی: ادارئہ تصنیف و تالیف، ۱۹۵۶ء
(۱۲) عباس، اصغر، سرسیّد کا سفر نامہ (مسافران لندن)، علی گڑھ: ایجوکیشن بک ہائوس، ۲۰۰۹ء
(۱۳) عبداللہ، شیخ محمد، ڈاکٹر، مشاہدات و تاثرات، علی گڑھ: فیمیل ایجوکیشن ایسوسی ایشن، ۱۹۶۹ء
(۱۴) قاسمی، احمد ندیم، مقالاتِ سرسید، حصہ پنجم، لاہور:مجلسِ ترقیِ ادب، ۱۹۹۰ء
(۱۵) نظا می، خلیق احمد، پروفیسر، سر سیّد اور علی گڑھ تحریک، علی گڑھ :ایجوکیشنل بک ہائوس، ۱۹۸۲ء
رسائل و جرائد
(۱) سہ ماہی فکرونظر، ادارۂ تحقیقات اسلامی، اسلام آباد، شمارہ ۴، اپریل۔جون ۲۰۱۲ء
Statistics
Author(s):
Saira Mehdi
Research scholar, Department of Islamic History, University of Karachi.Pakistan
Details:
| Type: | Article |
| Volume: | 10 |
| Issue: | 10 |
| Language: | Urdu |
| Id: | 601d643f6e165 |
| Pages | 16 - 27 |
| Published | December 30, 2018 |
Statistics
|
|---|

This work is licensed under a Creative Commons Attribution 4.0 International License.